قیوم خان ملنگ کون ہیں؟ افغان صوبہ بدخشاں میں طالبان مخالف حملے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

0

بدخشاں (افغانستان): پاکستان کی سرحد کے قریب واقع افغان صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح گروہ نے ضلع یفتل کے انتظامی مرکز پر چند گھنٹوں کے لیے قبضہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ پنجشیر میں ‘قومی مزاحمتی محاذ’ کو پہنچنے والے دھچکے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کے مخالفین کسی ضلعی مرکز کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

‘سپاہیانِ میہن’ اور قیوم خان ملنگ کی کارروائی
اس اچانک حملے کی قیادت قیوم خان ملنگ نامی رہنما کر رہے تھے، جو اپنے بظاہر گمنام گروہ ‘سپاہیانِ میہن’ کے ہمراہ اس کارروائی میں ذاتی طور پر شامل تھے۔

حملے کا وقت: انتظامی عہدیداروں کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ضلعی ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولا گیا۔

طالبان کا ردِعمل: مقامی پولیس ترجمان کے مطابق امن و امان بحال کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی اور چند ہی گھنٹوں میں حملہ آوروں کو وہاں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

طالبان فوجی قيادت اور سیکیورٹی اداروں کا موقف
حملے کے بعد صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے طالبان فوج کے اعلیٰ کمانڈر فصیح الدین فطرت نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔

فصیح الدین فطرت کا بیان: “یہ چھوٹے اور غیر معروف گروہ صرف میڈیا میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے اور جھنڈے لہرانے کے لیے ایسی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ‘سپاہیانِ میہن’، ‘آزادی محاذ’ یا ‘مزاحمتی محاذ’ میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ فورسز کا باقاعدہ مقابلہ کر سکیں۔ زیرِ حراست افراد سے ہونے والی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے اشارے شامل ہو سکتے ہیں۔”

فی الوقت بدخشاں کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ضلع یفتل میں حالات مکمل طور پر پرامن ہیں اور سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول بحال ہو چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں