غزہ / دوحہ: فلسطینی تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو اپنے سیاسی بیورو کا نیا امیر منتخب کر لیا ہے۔ وہ 2024ء میں اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے رہنما یحییٰ السنوار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ خلیل الحیہ کی یہ قیادت موجودہ تنظیمی مدت کے خاتمے یعنی 2027ء تک برقرار رہے گی۔
تعلیمی سفر اور ابتدائی سیاسی زندگی
پیدائش و پس منظر: خلیل الحیہ 5 نومبر 1960ء کو غزہ کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1967ء کی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات، اسرائیلی فورسز کے گھر پر چھاپوں اور رشتہ داروں کی گرفتاریوں نے ان کے سیاسی شعور کو بیدار کیا۔
سیاسی آغاز: مارچ 1980ء میں حماس کے بانی شیخ احمد یٰسین سے پہلی ملاقات ان کی زندگی میں اہم موڑ ثابت ہوئی، جس کے بعد وہ اسلامی تحاریک سے منسلک ہو گئے۔
اعلیٰ تعلیم:
1983ء: اسلامی یونیورسٹی غزہ سے اسلامیات میں بی اے کی ڈگری۔
1986ء: اردن یونیورسٹی سے ماسٹرز۔
1997ء: سوڈان کی یونیورسٹی سے علومِ حدیث میں پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی سند حاصل کی۔
عملی شعبہ: وہ اسلامی یونیورسٹی غزہ میں ڈین آف سٹوڈنٹ افیئرز کے عہدے پر فائز رہے اور فلسطینی علماء کونسل کا حصہ بھی رہے۔ 1987ء میں حماس کی بنیاد رکھنے والی شخصیات میں شامل رہے اور انتفاضہ کے دوران انہیں صہیو نی فورسز نے گرفتار کر کے جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا۔
پارلیمانی سیاست: 2006ء میں وہ فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن بنے اور پارلیمان میں حماس کے گروہ کی نمائندگی کی۔
سفارتی اور مذاکراتی کردار
گزشتہ بیس سالوں کے دوران انہوں نے حماس میں کئی کلیدی سیاسی و سفارتی عہدے سنبھالے، جن میں غزہ کے نائب سربراہ اور عرب و اسلامی امور کے شعبے کی سربراہی شامل ہے۔
مرکزی مذاکرات کار: 2012ء اور 2014ء کی جنگوں کے بعد ہونے والے معاہدو ں میں انہوں نے حماس کی نمائندگی کی۔ اکتوبر 2023ء میں جنگ چھڑنے کے بعد، وہ قطر اور مصر کی وساطت سے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے قیدیوں کے تبادلے اور معطلئ جنگ کے بالواسطہ مذاکرات میں حماس کے اہم ترین نمائندے رہے۔
2012ء سے قطر میں حماس کے سیاسی دفتر کے قیام کے بعد سے وہ دوحہ میں مقیم رہے اور علاقائی سفارت کاری کو فعال رکھا۔ نومبر 2023ء میں انہوں نے لبنان کا دورہ کر کے حزب اللہ کے آنجہانی سربراہ حسن نصر اللہ سے بھی ملاقات کی تھی۔
قاتلانہ حملے اور خاندانی قربانیاں
خلیل الحیہ کی زندگی مسلسل اسرائیلی کارروائیوں اور ذاتی صدمات سے گھری رہی ہے:
مئی 2007ء: ان کے خاندانی مکان پر اسرائیلی بمباری میں 2 بھائیوں سمیت خاندان کے 7 افراد شہید ہوئے۔
2008ء: القسام بریگیڈز سے وابستہ ان کا بیٹا حمزہ ڈرون حملے میں نشانہ بنا۔
2014ء: فضائی حملے میں ان کا بڑا بیٹا اسامہ، بہو اور تین پوتے پوتے شہید ہوئے۔
جنوری 2024ء: بیروت میں ہونے والے حملے میں صالح العاروری کی شہادت کے وقت وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
ستمبر 2025ء: دوحہ (قطر) میں ان کی رہائش گاہ پر اسرائیلی حملہ ہوا جس میں ان کا بیٹا ہمام، دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لباد، 3 باڈی گارڈز اور 1 قطری سیکیورٹی اہلکار جان سے گئے، تاہم خلیل الحیہ بچ گئے۔
مئی 2026ء: غزہ شہر کے محلے دراج میں اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والا ان کا ایک اور بیٹا عزام بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
جنگی حالات میں قیادت کا انتخاب
اپنے کنبے کے متعدد پیاروں کی شہادت اور مسلسل حملوں کے باوجود، خلیل الحیہ حماس کے سیاسی دھارے میں ایک مضبوط اور بااثر رہنما کے طور پر ڈٹے رہے، جس کے بعد تنظیم نے موجودہ مشکل ترین جنگی حالات میں انہیں اپنے سیاسی بیورو کا سربراہ مقرر کیا۔







