مورخہ 6 جولائی 2026ء کو ضلع زیارت کی پولیس فورس کے 42 اہلکاروں کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کچھ، ضلع زیارت اور سران کے درمیان واقع ایک سنسان اور غیر آباد علاقے میں موجود ایک خشک اور غیر استعمال شدہ پانی کی ٹینکی کی حفاظت کے بہانے تعینات کیا گیا۔
وہاں دہشت گردوں نے ان پر چاروں طرف سے حملہ کیا۔ پولیس اہلکاروں نے محدود وسائل اور صرف ایک ایک میگزین کے ساتھ انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا۔
جب ان کا اسلحہ ختم ہو گیا تو انہوں نے بارہا ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، انسدادِ دہشت گردی فورس (CTD) اور ایف سی، جو محض چند کلومیٹر کے فاصلے کچھ بازار پر موجود تھے، سے فوری مدد کی اپیل کی، مگر یہ ادارے اور ان کے سربراہان اخر تک ٹس سے مس نہ ہوئے، جس کے نتیجے میں ضلع زیارت کی تاریخ کا ایک نہایت المناک سانحہ پیش ہوا جس میں 30 پولیس فورس کے اہلکار شہید ہوئے۔
لہٰذا ہمارا پُرزور مطالبہ ہے کہ اس سانحے کی سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج یا ایک آزاد جوڈیشل کمیشن کے ذریعے مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
2۔ ضلع زیارت کے تمام متاثرہ علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا جائے اور آئندہ کے لئے دہشت گردوں کو دوبارہ نہ لانے کی ضمانت دی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
3۔ لیویز فورس کو بحال کرکے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے، جدید وسائل، تربیت اور اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر امن و امان کو مؤثر بنایا جا سکے۔
4۔ فرنٹیئر کور (FC) کو واپس بھیجا جائے
5۔ بلوچستان کے لیویز فورس کی بحالی کے بعد ان کےسیکورٹی بجٹ کو دگنا کیا جائے۔
6۔ شہداء پولیس فورس کے اہلِ خانہ کے لیے اعلان کردہ مالی معاوضہ کو دگنا کیا جائے۔
7۔ شہداء کے اہلِ خانہ، خصوصاً ان کے بچوں کو سرکاری ملازمتوں میں فوری بنیادوں پر روزگار فراہم کیا جائے۔
8۔ شہداء کے بچوں کو ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں مکمل طور پر مفت اور معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔







