جنگ دوبارہ شروع، امریکہ کے ایران پر تازہ فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں شدید اضافہ

0

جنگ دوبارہ شروع، امریکہ کے ایران پر تازہ فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں شدید اضافہ

واشنگٹن / تہران: امریکہ نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق کارروائی کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فضائی کارروائی ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات اور امریکی فوجی اڈوں پر حالیہ میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں سے قبل ایران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد امریکی افواج، خلیجی اتحادی ممالک اور بین الاقوامی بحری راستوں کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق بعض علاقوں میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے، جبکہ ملک کی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

تازہ حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ عراق، اردن، خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز کے اطراف بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر بھی اس کشیدگی کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سمیت متعدد عالمی طاقتوں نے امریکہ اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں