چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر پابندیوں کی دھمکیوں اور اقدامات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ یکطرفہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ چینی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ چین اپنے قومی مفادات اور کمپنیوں کے قانونی حقوق کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔
اگر آپ کی سرخی “ہم امریکی پابندیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں!” استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو یہ ایک جذباتی یا رائے پر مبنی جملہ ہے، لیکن سرکاری چینی بیان میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے۔ خبر میں حقائق کے مطابق یہ لکھنا زیادہ مناسب ہوگا:
امریکی پابندیوں کی دھمکی مسترد، چین کا دوٹوک مؤقف: یکطرفہ پابندیاں قبول نہیں
خبر:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
چین کی وزارتِ تجارت کے مطابق امریکی پابندیاں بین الاقوامی قانون اور عالمی تجارتی اصولوں کے خلاف ہیں، اس لیے چینی اداروں کو ان پر عمل درآمد کرنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ وزارت نے کہا کہ بیجنگ چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور غیرملکی پابندیوں کے غیرقانونی اطلاق کو مسترد کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی تجارت سے متعلق متعدد چینی ریفائنریوں اور شپنگ نیٹ ورک پر پابندیاں اس لیے لگائی گئیں تاکہ ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کیا جا سکے۔







