مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار

0

ایران، اسرائیل اور امریکہ: تازہ ترین صورتحال

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم حالیہ دنوں میں سفارتی کوششوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز پر بحران برقرار

ایران نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ تہران کے مطابق صرف عمان کے ذریعے آبنائے ہرمز میں عارضی بحری آمدورفت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی “جارحیت” ختم نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز مکمل طور پر معمول کے مطابق نہیں کھولی جا سکتی۔

ٹرمپ کا نیا مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر نئے بڑے فوجی حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ دوبارہ سخت فوجی کارروائی پر غور کرے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض اتحادی ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس سے جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم ایران نے امریکی مؤقف کی تصدیق نہیں کی۔

اسرائیل اور ایران کی کشیدگی

ایران نے دو افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد نے جنگ کے دوران حساس فوجی تنصیبات کی معلومات اسرائیل کو فراہم کی تھیں۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایران کی نئی حکمتِ عملی

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب براہِ راست بڑی جنگ کے بجائے دباؤ کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔ تہران آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور خطے کے توانائی کے راستوں کو اپنی سفارتی طاقت کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔

عالمی معیشت پر اثرات

امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہونے سے تیل کی سپلائی بہتر ہو سکتی ہے۔ تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

خلاصہ:
اس وقت صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ایک طرف امریکہ سفارت کاری کو موقع دینے کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اپنی شرائط پر قائم ہے اور اسرائیل کے ساتھ اس کی دشمنی میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، لیکن ناکامی کی صورت میں خطے میں دوبارہ بڑے فوجی تصادم کا خطرہ برقرار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں