وریشہ نے آن لائن کی دنیا میں 21سال کی عمر میں اپنی معذوری کو رکاوٹ بنانے کے بجائے ایک نئی مثال قائم کردی
کراچی(شوبز نیوز) پاکستان کی پہلی نابینا ڈیجیٹل انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر وریشہ ایوب نے اپنی قابلیت سے خود کو منوا لیا۔انہوں نے آن لائن کی دنیا میں 21سال کی عمر میں اپنی معذوری کو رکاوٹ بنانے کے بجائے ایک نئی مثال قائم کردی، وہ سوشل میڈیا پر بلائنڈ بیوٹی کے نام سے اپنے پیجز چلاتی ہیں۔اے آر وائی نیوز کراچی کی نمائندہ عروج رضوی کی رپورٹ کے مطابق وریشہ کا مقصد معاشرے میں نابینا افراد کے حقوق، ان کی روزمرہ کی زندگی کے چیلنجز اور ان کی خود مختاری کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے۔بینائی سے محرومی کو اپنی کمزوری کے بجائے طاقت بنانے والی کراچی کی 21 سالہ وریشہ ایوب سوشل میڈیا پر امید، خود اعتمادی اور حوصلے کی نئی مثال بن گئی ہیں۔
نابینا کانٹینٹ کریئیٹر وریشہ ایوب نے مختصر عرصے میں سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ وہ اپنی روزمرہ زندگی، خودمختاری اور مثبت سوچ کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگی سنوار رہی ہیں بلکہ معذور افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی امید کی کرن ثابت ہو رہی ہیں۔وریشہ ایوب کا کہنا ہے کہ کانٹینٹ کریئیشن کا خیال انہیں ان کے بھائی نے دیا، جبکہ ان کے تمام بہن بھائیوں اور والدین نے ہر قدم پر بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ان کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے بے حد مثبت ردعمل ملتا ہے، خصوصا ایسے والدین ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کے بچے کسی معذوری کا شکار ہیں۔
خوش مزاج اور خوش گفتار وریشہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے بیشتر کام خود انجام دیتی ہیں، وہ خود ہیئر اسٹائل بناتی ہیں، لباس کا انتخاب کرتی ہیں، میک اپ کرتی ہیں اور اہلِ خانہ کے ساتھ خریداری کے دوران بھی اپنی پسند کی اشیا خود منتخب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔سوشل میڈیا میں مصروفیت کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین کاریگر بھی ہیں، وریشہ ایوب اپنے ہاتھوں سے موتیوں کے خوبصورت زیورات بھی تیار کرتی ہیں، جنہیں مختلف نمائشوں میں پیش کرکے فروخت کرتی ہیں۔وریشہ ایوب کی کامیابی اس سوچ کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے جو معذوری کو کمزوری سمجھتی ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ عزم، محنت اور خوداعتمادی کے ساتھ جسمانی محرومیاں بھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔







