اقوامِ متحدہ کا نیا عالمی نقشہ، افریقہ کا اصل حجم نمایاں کرنے کی قرارداد منظور

0

اقوامِ متحدہ کا نیا عالمی نقشہ، افریقہ کا اصل حجم نمایاں کرنے کی قرارداد منظور

**نیویارک: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے نقشے میں براعظموں کے حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرنے کے لیے ایک اہم قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔**

افریقی ممالک اور بہاماس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں **164 ممالک** نے ووٹ دیا، جبکہ **ایک ملک نے مخالفت** کی اور **6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا**۔ قرارداد کا مقصد روایتی **مرکیٹر پروجیکشن (Mercator Projection)** کے بجائے ایسے نقشوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو براعظموں کے حقیقی نسبتی حجم کو زیادہ درست انداز میں پیش کریں۔

مرکیٹر نقشہ صدیوں سے دنیا بھر میں استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم اس میں خطِ استوا سے دور علاقوں کے حجم کو نسبتاً بڑا دکھایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں افریقہ اپنے حقیقی رقبے کے مقابلے میں نقشے پر نسبتاً چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔

نئی قرارداد میں **Equal Earth projection** جیسے زیادہ درست نقشہ جاتی طریقوں کو فروغ دینے کی حمایت کی گئی ہے۔ اس انداز میں افریقہ، جنوبی امریکا اور دیگر خطوں کے حقیقی نسبتی حجم کو زیادہ بہتر طور پر دکھایا جاتا ہے۔

افریقی ممالک کا مؤقف ہے کہ نقشے میں براعظم کے حقیقی حجم کی درست نمائندگی صرف جغرافیائی معاملہ نہیں بلکہ دنیا میں افریقہ کے تصور، اس کی معاشی صلاحیت اور ترقیاتی اہمیت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

تاہم یہ بات واضح ہے کہ **افریقہ کو دنیا کا سب سے بڑا براعظم قرار نہیں دیا گیا**۔ افریقہ رقبے کے اعتبار سے **ایشیا کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا براعظم** ہے۔ نئی قرارداد کا مقصد اس کے حقیقی حجم کو نقشوں پر زیادہ درست انداز میں نمایاں کرنا ہے۔

قرارداد کی منظوری کے باوجود روایتی مرکیٹر نقشے کا استعمال فوری طور پر ختم نہیں ہوگا، جبکہ بحری اور فضائی نیویگیشن میں اس کے مخصوص استعمال برقرار رہ سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More