تجزیہ بی این پی
پاکستان ایک نوجوان ملک ہے اور یہی حقیقت اس کے مستقبل کی سب سے بڑی امید بھی ہے۔ عالمی یومِ آبادی کے موقع پر یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کی جاری کردہ رپورٹ میں یہ انکشاف کہ 76 فیصد پاکستانی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں، محض ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسا مثبت پیغام ہے جو اس قوم کی صلاحیت، عزم اور مستقبل کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک بڑھتی عمر کی آبادی، افرادی قوت کی کمی اور معاشی جمود جیسے مسائل سے دوچار ہیں، پاکستان کے پاس نوجوانوں کی صورت میں ایک ایسا قیمتی سرمایہ موجود ہے جو درست منصوبہ بندی، معیاری تعلیم، جدید تربیت اور مساوی مواقع کے ذریعے ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 72 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ایک تہائی آبادی کی عمر 10 سے 24 سال کے درمیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے کئی عشروں تک پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت کی ایک مضبوط بنیاد موجود رہے گی۔ دنیا بھر میں معاشی ترقی کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی نوجوان آبادی کو تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار سے جوڑا، انہوں نے غیر معمولی معاشی ترقی حاصل کی۔ جنوبی کوریا، سنگاپور، ملائیشیا اور چین کی مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ آبادی خود مسئلہ نہیں بلکہ اس کی درست سمت میں رہنمائی اور سرمایہ کاری ہی ترقی کی اصل کنجی ہوتی ہے۔
پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت کا مستقبل کے بارے میں پرامید ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکلات کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، معاشی دباؤ، موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود نوجوانوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہی امید کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے کیونکہ امید ہی انسان کو جدوجہد، اختراع اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 53 فیصد نوجوان سکیورٹی، معاشی مسائل اور عدم مساوات کے باعث پریشان ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ امید موجود ہے مگر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو روزگار، تعلیم، سماجی انصاف اور بہتر مواقع کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ ان خدشات کو ختم کرنا حکومت، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نوجوانوں کو صرف تقریروں میں قوم کا مستقبل قرار دینا کافی نہیں بلکہ انہیں عملی طور پر ایسا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نوجوان آبادی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے قومی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ تصور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر نوجوان کو معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارت، کاروباری تربیت اور باوقار روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان ملکی معیشت، صنعت، زراعت، آئی ٹی، برآمدات، صحت، تحقیق اور اختراع کے میدان میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے نوجوانوں پر اعتماد کرتی ہیں اور ان کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔
آج کا دور ڈیجیٹل معیشت کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن تعلیم جیسے شعبے دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لاکھوں نوجوان پہلے ہی عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اگر سرکاری سطح پر جدید آئی ٹی مراکز، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس اور ڈیجیٹل اسکل پروگرامز کو مزید وسعت دی جائے تو پاکستان نہ صرف بے روزگاری میں نمایاں کمی لا سکتا ہے بلکہ اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو انٹرنیٹ کی محدود سہولت کے باعث درپیش مشکلات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ مسئلہ صرف انٹرنیٹ تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، معلومات، روزگار اور کاروباری مواقع تک رسائی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آج دنیا میں تیز رفتار انٹرنیٹ بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ اگر دیہی نوجوان جدید رابطہ سہولیات سے محروم رہیں گے تو ترقی کا سفر یکساں نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں تک براڈ بینڈ انٹرنیٹ، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر پہنچایا جائے۔
پاکستان کی نوجوان آبادی صرف معاشی ترقی ہی نہیں بلکہ سماجی استحکام کی بھی ضمانت بن سکتی ہے۔ نوجوان رضاکارانہ خدمات، ماحولیات کے تحفظ، صحت، تعلیم، کھیل، ثقافت اور سماجی ہم آہنگی جیسے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جب نوجوان مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے تو انتہاپسندی، منشیات، جرائم اور مایوسی جیسے مسائل میں بھی قدرتی طور پر کمی آئے گی۔
اسی طرح نوجوان خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری بھی قومی ترقی کا لازمی حصہ ہے۔ پاکستان میں لاکھوں باصلاحیت لڑکیاں مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ اگر انہیں مساوی تعلیمی، معاشی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جائیں تو ملکی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے۔ کسی بھی قوم کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل سے الگ رکھ کر پائیدار خوشحالی حاصل نہیں کی جا سکتی۔
یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آبادی کی پالیسی صرف تعداد بڑھانے یا کم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق، باخبر فیصلوں اور آزادانہ انتخاب سے متعلق معاملہ ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے کیونکہ جدید دنیا میں ترقی کا معیار صرف آبادی کی تعداد نہیں بلکہ انسانی وسائل کا معیار، صحت، تعلیم، پیداواری صلاحیت اور زندگی کے بہتر مواقع ہوتے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نوجوانوں کے لیے مختلف سطحوں پر ہنر مندی، کاروباری تربیت اور آئی ٹی پروگرامز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اگر ان منصوبوں میں تسلسل، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے تو ان کے نتائج مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو قرضوں، کاروباری رہنمائی، انکیوبیشن سینٹرز اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تعلیمی نظام میں بھی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ صرف ڈگریاں دینے والا نظام اب دنیا کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ صنعت، مارکیٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنا ہوگا تاکہ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد براہ راست روزگار یا کاروبار کے قابل ہو سکیں۔ فنی تعلیم، تحقیق، اختراع، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، گرین ٹیکنالوجی اور جدید سائنس کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
آج دنیا میں “ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ” یعنی نوجوان آبادی سے حاصل ہونے والا معاشی فائدہ ایک تسلیم شدہ تصور ہے۔ پاکستان کے پاس بھی یہ تاریخی موقع موجود ہے لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے بروقت فیصلے ضروری ہیں۔ اگر نوجوانوں کو نظر انداز کیا گیا تو یہی آبادی بے روزگاری، غربت اور سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اگر درست منصوبہ بندی کی گئی تو یہی نوجوان پاکستان کو معاشی خودکفالت، برآمدات میں اضافے اور عالمی مسابقت کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ رپورٹ حکومت، نجی شعبے، تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ پاکستان کے نوجوان مایوس نہیں بلکہ پْرامید ہیں، اور یہی امید ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس امید کو مضبوط پالیسیوں، معیاری تعلیم، جدید ہنر، روزگار کے مساوی مواقع، تحقیق، اختراع اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ذریعے حقیقی کامیابی میں تبدیل کیا جائے۔ نوجوانوں پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کا اصل سرمایہ اس کے قدرتی وسائل سے زیادہ اس کے نوجوان ہیں۔ اگر ان کی توانائی، تخلیقی صلاحیت، جذب? خدمت اور جدید سوچ کو درست سمت دی جائے تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ 76 فیصد نوجوانوں کی امید دراصل پاکستان کے روشن کل کی نوید ہے۔ اس امید کو برقرار رکھنا، اسے مواقع میں بدلنا اور ہر نوجوان کو ترقی کے سفر میں شریک کرنا ریاست، معاشرے اور ہر ذمہ دار ادارے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب نوجوان مضبوط ہوں گے تو معیشت مضبوط ہوگی، معاشرہ مستحکم ہوگا اور پاکستان کا مستقبل یقیناً زیادہ روشن، خوشحال اور ترقی یافتہ ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
روشن نوجوان، مضبوط پاکستان۔ آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ قومی طاقت بنانے کا وقت
0







