پانی، معیشت اور قومی سلامتی: نئے ڈیموں کی تعمیر کیوں وقت کی سب سے بڑی قومی ضرورت ہے؟

پانی، معیشت اور قومی سلامتی: نئے ڈیموں کی تعمیر کیوں وقت کی سب سے بڑی قومی ضرورت ہے؟ 0

تجزیہ بی این پی
پاکستان اس وقت جن بڑے قومی چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں آبی بحران، موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی قلت، زرعی مسائل اور سیلابی تباہ کاریاں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ تمام مسائل بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی جڑ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ پانی کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، زرعی استحکام، توانائی کی پیداوار، غذائی تحفظ اور سماجی خوشحالی کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر پانی کے وسائل کو مؤثر انداز میں محفوظ اور منظم نہ کیا جائے تو نہ صرف معیشت کمزور ہوتی ہے بلکہ قومی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔ پیش کردہ مواد اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پاکستان کو اپنی واٹر سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے فوری اور طویل المدتی بنیادوں پر نئے ڈیموں کی تعمیر، موجودہ آبی ذخائر کی بہتری اور مؤثر آبی پالیسی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا جغرافیہ ایک طرف اسے بڑے دریائی نظام سے نوازتا ہے تو دوسری طرف موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید خطرات سے بھی دوچار کرتا ہے۔ ہر سال مون سون کی بارشیں اور شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سیلاب آتے ہیں۔ یہ سیلاب صرف زرعی زمینوں، سڑکوں، پلوں اور آبادیوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ قومی معیشت کو بھی اربوں روپے اور اربوں ڈالر کے نقصانات سے دوچار کر دیتے ہیں۔ اگر یہی پانی مناسب منصوبہ بندی کے تحت ڈیموں میں ذخیرہ کیا جائے تو یہی پانی خشک موسم میں زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر پورا تجزیہ قائم ہے۔
پاکستان کی آبی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ منگلا اور تربیلا ڈیم جیسے بڑے منصوبے ملک کی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان ڈیموں نے کئی دہائیوں تک نہ صرف زرعی نظام کو پانی فراہم کیا بلکہ سستی پن بجلی پیدا کرکے صنعتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان ڈیموں میں تلچھٹ جمع ہونے سے ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود نئے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کی رفتار انتہائی سست رہی، جس کے نتیجے میں ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ایسا ملک، جہاں ہر سال سیلاب بھی آتے ہوں اور دوسری طرف پانی کی قلت بھی بڑھ رہی ہو، وہ مزید ڈیموں کی تعمیر کے بغیر اپنی آبی ضروریات پوری کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب پیش کردہ مواد اور زمینی حقائق دونوں کی روشنی میں نفی میں نظر آتا ہے۔ اگر پانی کو محفوظ نہ کیا جائے تو بارشوں اور سیلاب کا بیشتر حصہ سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ خشک موسم میں زراعت اور شہری آبادی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک کا تقابلی جائزہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نے پانی کے ذخیرے کو قومی ترجیح بنایا۔ بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے اور بڑے ڈیم موجود ہیں، چین نے لاکھوں نہیں بلکہ دسیوں ہزار آبی منصوبے تعمیر کیے ہیں، جبکہ سری لنکا جیسے نسبتاً چھوٹے ملک میں بھی سینکڑوں ڈیم موجود ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے ڈیموں کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ یہ فرق محض اعداد و شمار کا نہیں بلکہ پالیسی، منصوبہ بندی اور ترجیحات کا فرق بھی ہے۔ جہاں دوسرے ممالک نے مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کی، وہاں پاکستان میں کئی اہم منصوبے مالی وسائل کی کمی، انتظامی تاخیر اور سیاسی اختلافات کا شکار رہے۔
بھاشا ڈیم کی مثال اس صورت حال کو واضح کرتی ہے۔ اگر کسی منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز کے مقابلے میں بہت کم بجٹ مختص کیا جائے تو اس کی تکمیل میں تاخیر ناگزیر ہو جاتی ہے۔ تاخیر کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ تعمیراتی لاگت مسلسل بڑھتی رہتی ہے، دوسرا نقصان یہ کہ قوم ان معاشی فوائد سے بھی محروم رہتی ہے جو منصوبہ مکمل ہونے کے بعد حاصل ہو سکتے تھے۔ یوں محدود سرمایہ کاری بظاہر اخراجات میں کمی معلوم ہوتی ہے لیکن طویل مدت میں اس کا مالی بوجھ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
پن بجلی کے شعبے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کی بندش بھی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اس منصوبے کی بندش نے نہ صرف مالی نقصان پہنچایا بلکہ ملک کو مہنگے درآمدی ایندھن سے بجلی پیدا کرنے پر بھی مجبور کیا۔ پن بجلی نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہوتی ہے، اس لیے ایسے منصوبوں کی بروقت دیکھ بھال، معیاری تعمیر اور مؤثر نگرانی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ اگر سستی بجلی کی فراہمی میں کمی آئے گی تو اس کے اثرات صنعت، تجارت، برآمدات اور عام صارفین تک پہنچیں گے۔
پیش کردہ مواد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈیم صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کے کئی دیگر فوائد بھی ہوتے ہیں۔ ڈیم پانی ذخیرہ کرتے ہیں، زرعی نظام کو مستحکم بناتے ہیں، زیرزمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، سیلاب کے دباؤ کو کم کرتے ہیں اور خشک سالی کے دوران پانی کی دستیابی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس طرح ایک ہی منصوبہ کئی قومی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ اگر آبپاشی کے لیے مناسب مقدار میں پانی دستیاب نہ ہو تو فصلوں کی پیداوار متاثر ہوگی، کسانوں کی آمدنی کم ہوگی، غذائی تحفظ خطرے میں پڑ جائے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کا تحفظ صرف ایک تکنیکی یا انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ براہ راست معاشی اور سماجی استحکام سے بھی وابستہ ہے۔
پانی کی فی کس دستیابی میں مسلسل کمی بھی ایک تشویشناک پہلو ہے۔ پیش کردہ مواد کے مطابق آزادی کے وقت فی کس پانی کی دستیابی کئی گنا زیادہ تھی جبکہ اب اس میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ اس کمی کی ایک بڑی وجہ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی اور پانی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت ہے۔ جب آبادی بڑھتی جائے اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہ ہو تو پانی کی قلت ایک قدرتی نتیجہ بن جاتی ہے۔
یہاں دوسرا اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اگر ہر سال قیمتی میٹھا پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے تو کیا صرف بارشوں کے انتظار یا ہنگامی امدادی اقدامات سے پاکستان کا آبی بحران حل ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی یہی ہے کہ مسئلے کا مستقل حل صرف جامع منصوبہ بندی، بہتر آبی نظم و نسق اور نئے ذخائر کی تعمیر سے ہی ممکن نظر آتا ہے۔
البتہ اس موضوع کا تجزیہ صرف ڈیموں کی تعمیر تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پانی کے مؤثر استعمال، نہری نظام کی بہتری، جدید آبپاشی، پانی کے ضیاع کی روک تھام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیرزمین پانی کے دانشمندانہ استعمال پر بھی یکساں توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر صرف ڈیم بن جائیں لیکن پانی کی تقسیم، نہروں کی مرمت اور استعمال کے نظام میں اصلاحات نہ ہوں تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اس لیے آبی پالیسی کو ایک جامع قومی حکمت عملی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
اسی طرح ماحولیاتی پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر کے دوران ماحول، مقامی آبادی، جنگلات اور قدرتی نظام پر ممکنہ اثرات کا سائنسی جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان متوازن راستہ اختیار کیا جا سکے۔ جدید دنیا میں پائیدار ترقی کا تصور یہی ہے کہ ترقیاتی منصوبے معاشی فوائد کے ساتھ ساتھ سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھیں۔
ادارتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پیش کردہ مواد کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کو آبی ذخائر کی تعمیر کو قومی ترجیح بنانا چاہیے۔ یہ مؤقف اس دلیل پر مبنی ہے کہ سیلاب، توانائی بحران، زرعی مسائل اور پانی کی قلت جیسے کئی چیلنجز کا ایک مؤثر حل بہتر آبی منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ دیگر اصلاحات بھی ضروری ہیں، لیکن نئے ڈیموں کی تعمیر کو نظرانداز کرنا مستقبل کے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
پاکستان میں پالیسیوں کا تسلسل بھی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ کئی منصوبے حکومتوں کی تبدیلی، مالی مشکلات یا انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے۔ قومی نوعیت کے منصوبوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھتے ہوئے طویل المدتی وڑن کے تحت مکمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پانی کا مسئلہ کسی ایک صوبے، حکومت یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے اس کے حل کے لیے بھی قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔
اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، موسمیاتی پیش گوئی کے نظام، ڈیموں کی نگرانی اور انفراسٹرکچر کی بروقت دیکھ بھال پر سرمایہ کاری بھی اہم ہے۔ نیلم جہلم منصوبے کی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف تعمیر کافی نہیں بلکہ بعد از تعمیر مؤثر انتظام اور تکنیکی معیار بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر منصوبوں کی دیکھ بھال میں غفلت برتی جائے تو قومی سرمایہ کاری مطلوبہ فوائد فراہم نہیں کر پاتی۔
تعلیمی اور عوامی سطح پر بھی پانی کے تحفظ کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔ پانی کی بچت، ذمہ دارانہ استعمال اور آبی وسائل کی اہمیت سے متعلق آگاہی مستقبل میں قومی سطح پر بہتر نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ حکومت، ماہرین، تعلیمی اداروں، میڈیا اور عوام کو مل کر پانی کے تحفظ کو ایک مشترکہ قومی ذمہ داری کے طور پر اپنانا ہوگا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیش کردہ مواد پاکستان کے آبی مستقبل کے حوالے سے ایک سنجیدہ اور بروقت مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات، سیلابی خطرات، بڑھتی ہوئی آبادی، زرعی ضروریات اور توانائی کی طلب اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ملک میں آبی ذخائر کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔ منگلا اور تربیلا جیسے منصوبوں نے ماضی میں قومی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے ڈیم، بہتر آبی انتظام، مؤثر فنڈنگ، تکنیکی معیار اور پائیدار پالیسی ناگزیر ہیں۔ اگر پاکستان بروقت اور جامع آبی منصوبہ بندی اختیار کرتا ہے تو نہ صرف پانی کے بحران میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ زرعی پیداوار، توانائی، معیشت اور قومی استحکام کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہی اس تجزیے کا بنیادی حاصل ہے کہ پانی کو ضائع ہونے سے بچانا، اسے محفوظ کرنا اور دانشمندانہ انداز میں استعمال کرنا مستقبل کے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٧

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں