تجزیہ بی این پی
پاکستان کی عسکری تاریخ میں بعض شخصیات اپنے کردار، وڑن، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے سنگ میل قائم کرتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ سرکاری دور? ترکیہ بھی انہی تاریخی اور غیر معمولی سفارتی و عسکری کامیابیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس دورے نے نہ صرف پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو نئی توانائی بخشی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی وقار، سفارتی وزن اور عسکری اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔ برادر اسلامی ملک ترکیہ کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے جس گرمجوشی، احترام اور عزت کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کیا گیا، وہ اس حقیقت کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان آج بھی مسلم دنیا میں ایک مضبوط، باوقار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
صدر رجب طیب اردوان، وزیر دفاع یاشر گولر، ترک جنرل اسٹاف کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی صنعت میں اشتراک، انٹیلی جنس روابط، انسداد دہشت گردی اور علاقائی امن و استحکام جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور جذباتی رشتوں پر بھی استوار ہیں، جنہیں مزید مضبوط بنانے میں یہ دورہ نہایت اہم ثابت ہوگا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت آج پاکستان کی عسکری پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر متزلزل قیادت اور قومی سلامتی کے عزم کی علامت بن چکی ہے۔ انہوں نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف کامیاب حکمت عملی اختیار کی بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی مؤقف کو بھی مؤثر انداز میں پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دوست ممالک کی قیادت ان پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش رکھتی ہے۔
ترکیہ کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ڈسٹنگوشڈ سروس میڈل جیسے اعلیٰ عسکری اعزاز سے نوازا جانا صرف ایک فرد کا اعزاز نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم، پاک فوج اور ریاست پاکستان کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے۔ یہ اعزاز اس امر کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف اپنے ملک کے دفاع میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی امن کے فروغ میں بھی ایک ذمہ دار قوت کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ایسے اعزازات کسی بھی ملک کے عسکری وقار اور بین الاقوامی اعتماد کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترک لینڈ فورسز ہیڈکوارٹر کا دورہ کرکے عسکری تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیشہ ورانہ تجربات اور دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی زور دیا۔ موجودہ دور میں دفاع صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور جدید جنگی حکمت عملی بھی دفاعی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اشتراک دونوں ممالک کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انقرہ میں ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھانا اور خراجِ عقیدت پیش کرنا بھی اس دورے کا ایک اہم پہلو تھا۔ یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، تاریخی تعلقات اور مشترکہ اقدار کا خوبصورت اظہار ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ترکیہ کے دکھ سکھ میں ساتھ دیا ہے اور ترکیہ نے بھی ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی غیر مشروط حمایت کی ہے۔ یہی برادرانہ تعلقات دونوں ممالک کو اسلامی دنیا میں ایک منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کی رائے میں موجودہ عالمی حالات، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی، دہشت گردی کے خطرات اور خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں پاکستان اور ترکیہ کا مزید قریب آنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دونوں ممالک دفاعی صنعت، مشترکہ تحقیق، عسکری تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور جدید اسلحہ سازی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرکے نہ صرف اپنی سلامتی کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ اسلامی دنیا کے لیے بھی ایک مضبوط دفاعی ماڈل پیش کر سکتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ تحسین ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات پر ترجیح دی۔ ان کی قیادت میں پاک فوج نے داخلی سلامتی، سرحدی دفاع، انسداد دہشت گردی، قومی یکجہتی اور علاقائی استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط، دور اندیشی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم نے انہیں عالمی سطح پر ایک باوقار عسکری رہنما کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بند کمرہ ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین سیاسی اور دفاعی حکام کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات محض رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک مستقبل کی مشترکہ حکمت عملی، دفاعی صنعت، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون کو بھی نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔ اگر ان ملاقاتوں میں ہونے والے فیصلوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط اور دیرپا ثابت ہوں گے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس اعتماد، وقار اور استحکام کے ساتھ عالمی برادری میں اپنا کردار ادا کیا ہے، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ ان کی خدمات اس امر کی غماز ہیں کہ مضبوط قیادت، واضح وڑن اور پیشہ ورانہ مہارت کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر باوقار مقام دلا سکتی ہے۔ ترکیہ کا یہ تاریخی دورہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور مستقبل میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھولے گا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اعتماد، محبت، مشترکہ تاریخ اور دفاعی شراکت داری آنے والے برسوں میں مزید مستحکم ہوگی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کامیاب سفارت کاری، قائدانہ بصیرت اور قومی خدمات نہ صرف پاکستان کی عسکری تاریخ کا روشن باب ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہیں۔ پوری قوم اس تاریخی کامیابی پر فخر محسوس کرتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ ایسی مثبت سفارتی و دفاعی پیش رفت پاکستان کے امن، سلامتی، ترقی اور عالمی وقار میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ترکیہ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تاریخی سفارتی و عسکری دورہ، پاکستان کے عالمی وقار میں ایک اور درخشاں اضافہ
0







