تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معاشی بحالی، زرعی ترقی، ٹیکس اصلاحات اور علاقائی تعاون کو ایک نئی سمت دینے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعدد اہم اقدامات اور پالیسی فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایک ہی دن میں مختلف تقریبات، اجلاسوں اور ملاقاتوں کے دوران واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا، نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم اور تربیت فراہم کرنا، کاروباری ماحول کو بہتر بنانا اور ریاستی اداروں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اپنی زرعی صلاحیت، نوجوان افرادی قوت اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرے تو ملک مختصر مدت میں معاشی خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتا ہے۔
وزیراعظم نے **پاکستان انیمل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ ٹریسبلیٹی سسٹم (PAITS)** کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو زرخیز زمین، موزوں موسم اور محنتی عوام کی نعمت سے نوازا ہے، جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں غیر معمولی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے گرین کارپوریٹ لائیو اسٹاک انیشیٹو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر اعلان کیا کہ رواں سال چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے ایک ہزار میرٹ پر منتخب گریجویٹس کو زرعی علوم، جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے چین بھیجا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں اس پروگرام میں میرٹ کو نظر انداز کیا جاتا تھا اور سفارش کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے اس پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا، شفافیت کو یقینی بنایا اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ پہلے بھیجے گئے طلبہ نے وطن واپس آکر کیا خدمات انجام دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت صرف طلبہ کو بیرون ملک بھیجنے پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ ان کے حاصل کردہ علم کو عملی طور پر پاکستان کے زرعی نظام میں منتقل کرنے کے لیے بھی مربوط حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق جدید زرعی تحقیق، مشینی کاشتکاری، پانی کے مؤثر استعمال، اعلیٰ بیجوں، مویشیوں کی جدید افزائش اور ڈیجیٹل زراعت جیسے شعبے مستقبل میں پاکستان کی معاشی ترقی کے بنیادی ستون بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے، لیکن اس شعبے کی حقیقی معاشی صلاحیت سے ابھی تک مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ اگر ویلیو ایڈیشن، پراسیسنگ، کولڈ چین، برآمدی معیار اور جدید لائیو اسٹاک مینجمنٹ پر توجہ دی جائے تو پاکستان اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے نوجوان گریجویٹس کو چین بھیجنے کا فیصلہ صرف تعلیمی اقدام نہیں بلکہ اسے زرعی سفارت کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انسانی وسائل کی ترقی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اگر اس پروگرام میں شفافیت اور تسلسل برقرار رکھا گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید سوچ رکھنے والی نئی قیادت سامنے آ سکتی ہے، جو قومی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہوگی۔
وزیراعظم نے چین کو پاکستان کا قابل اعتماد اور دیرینہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری ہر شعبے میں مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور اب زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اور صنعتی تعاون میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کے سیکرٹری جنرل ایمبیسڈر محمد غلام سرور نے اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پر الوداعی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے علاقائی تعاون کے فروغ، رکن ممالک کے درمیان روابط بہتر بنانے اور سارک کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں ان کی خدمات کو سراہا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان سارک چارٹر کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام، تجارت، رابطوں اور مشترکہ ترقی کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں سارک کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے تمام رکن ممالک مثبت کردار ادا کریں گے تاکہ خطے کے عوام اقتصادی اور سماجی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
اسی روز وزیراعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ٹیکس نظام میں جاری اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، نگرانی کے نظام اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری برادری قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون کا رویہ اختیار کیا جائے، غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جائیں اور ٹیکس دہندگان کو عزت اور اعتماد دیا جائے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کے سینئر افسران کو ہدایت دی کہ وہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کریں اور صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں سے براہ راست ملاقات کرکے ان کے مسائل سنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے فوری حل سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی بھی ہدایت کی تاکہ دیانتدار ٹیکس دہندگان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے اور دیگر اداروں کو بھی قانون کی پاسداری کی ترغیب ملے۔
ایف بی آر حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹائلز اور فرٹیلائزر صنعتوں میں جدید پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کامیابی سے نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کی صنعتوں میں اس نظام کی تنصیب آخری مراحل میں ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید نگرانی کے نظام سے نہ صرف ٹیکس چوری میں کمی آئی بلکہ حکومتی محصولات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر انڈسٹری سے 42 ارب روپے، سیمنٹ انڈسٹری سے 38 ارب روپے اور بیوریجز انڈسٹری سے 15 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا، جو اس نظام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعظم نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت میں اضافہ ہوگا، ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا اور قومی خزانے کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔
ایف بی آر اصلاحات اور پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ کاروباری طبقے کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات اور شفاف نظام نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے بلکہ قومی معیشت کو بھی زیادہ مستحکم بنائیں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک میں جاری مون سون بارشوں، ممکنہ سیلابی صورتحال اور ہنگامی امدادی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ رکھے تاکہ کسی بھی ممکنہ قدرتی آفت کی صورت میں بروقت کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو حکومت کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے پیشگی تیاری، فوری امداد اور مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں۔
مجموعی طور پر وزیراعظم کے ایک روزہ سرکاری مصروفیات سے یہ تاثر سامنے آیا کہ حکومت زرعی ترقی، نوجوانوں کی تربیت، ٹیکس اصلاحات، کاروباری سہولت، علاقائی تعاون اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بیک وقت مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہے۔ اگر ان اعلانات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت، زراعت اور انتظامی نظام میں مثبت تبدیلیوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔ حکومت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ منصوبے صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ شفافیت، تسلسل اور مؤثر نگرانی کے ساتھ عملی نتائج بھی سامنے آئیں، تاکہ عوام کو ترقی اور خوشحالی کے حقیقی ثمرات حاصل ہو سکیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قومی ترقی کا نیا عزم: زراعت، معیشت اور اصلاحات کے ذریعے خوشحال پاکستان کی جانب پیش قدمی
0







