مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنازع میں شدت: ‘کسی سے معافی نہیں مانگوں گا’

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنازع میں شدت: 'کسی سے معافی نہیں مانگوں گا' 0

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کے حالیہ خطابات پر پیدا ہونے والا سیاسی و قانونی تنازع مزید سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔ اپنی پارٹی کے قانونی ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے واضح موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے کسی جملے پر پشیمان ہیں نہ معافی مانگیں گے، بلکہ ان کے بقول جو عناصر ان کے خلاف غلط فہمی اور پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، معافی کے حقدار وہ ہیں۔

تنازع کا پس منظر اور قانونی کارروائی
یہ تمام معاملہ قصور میں ایک عوامی اجتماع کے دوران دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا، جہاں مولانا نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی امن و امان کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلح گروہوں سے متعلق بات کی تھی۔

سیاسی بیان: مولانا فضل الرحمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی فرائض اور قربانیوں کو احسان کے طور پر پیش نہ کیا جائے اور اگر کسی کو سیاست کرنے کا شوق ہے تو وہ سرکاری عہدہ چھوڑ کر میدانِ سیاست میں آئے۔

حکومت اور وزیرِ دفاع کا سخت ردِعمل
وفاقی حکومت اور بالخصوص وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کی گفتگو پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

حکومتی موقف: “سیکیورٹی اہلکاروں کی وطن عزیز کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو محض مراعات یا تنخواہ سے مشروط کرنا شہدا کے اہل خانہ کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ سیاسی اور پالیسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن وطن کی خاطر دی جانے والی جانوں اور دفاعی اداروں کی وابستگی پر حرف نہیں لایا جا سکتا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں