بلوچستان کے نجی اسکولوں کی 3 ماہ کی ایڈوانس فیس، والدین نے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا
**کوئٹہ:** بلوچستان کے مختلف نجی اسکولوں میں مبینہ طور پر تین ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرنے کے مطالبے پر والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ تین ماہ کی فیس ادا کرنا متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ بعض والدین کے مطابق انہیں ایک ہی وقت میں **15، 20 اور 30 ہزار روپے یا اس سے زائد** رقم جمع کرانے کا کہا جا رہا ہے، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ **تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اسے صرف کاروباری سرگرمی نہیں بنایا جانا چاہیے۔** ان کا مطالبہ ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں اور ایڈوانس وصولیوں کے طریقہ کار کی نگرانی کی جائے تاکہ والدین کو غیر ضروری مالی مشکلات سے بچایا جا سکے۔
والدین نے **وزیراعلیٰ بلوچستان اور سیکرٹری تعلیم بلوچستان** سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نجی اسکولوں کی جانب سے تین ماہ کی ایڈوانس فیس کے مطالبے کی تحقیقات کی جائیں اور والدین کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
والدین کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات یقینی بنائے جن سے بچوں کی تعلیم بھی جاری رہے اور غریب و متوسط طبقے کے خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ بھی نہ پڑے۔