تجزیہ بی این پی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں معمولی نوعیت کا کوئی بھی عسکری تصادم پورے خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ غزہ میں جاری انسانی المیہ، شام اور لبنان کی غیر یقینی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، یمن کا طویل تنازع اور خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں یمنی حوثیوں کی جانب سے مملکتِ سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملے نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ خطے کے امن، مسلم دنیا کے اتحاد اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے میزائل حملوں کی فوری اور دوٹوک مذمت پاکستان کی ذمہ دار، متوازن اور اصولی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان برادر مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کی ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔
اسی طرح اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب کی جانب سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دینا اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان ہمیشہ طاقت کے بجائے امن، برداشت اور سیاسی حل کو ترجیح دیتا آیا ہے۔ یہی وہ مؤقف ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ممتاز کیا ہے۔
پاکستان کا یہ مؤقف محض سفارتی بیان نہیں بلکہ اس کی قومی سلامتی، علاقائی ذمہ داری اور اسلامی اخوت کے اصولوں کا عملی اظہار ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات وقتی سیاسی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ ان کی بنیاد کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، باہمی احترام، مشترکہ دینی اقدار اور تاریخی رفاقت پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو پاکستان کا ردعمل ہمیشہ واضح، مضبوط اور غیر مبہم ہوتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ باہمی اعتماد اور آزمودہ دوستی سے عبارت ہے۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کی اقتصادی مشکلات میں ہمیشہ فراخدلانہ تعاون کیا، سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے، توانائی کے شعبے میں مدد دی اور لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع مہیا کیے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، عسکری تربیت اور دفاعی تعاون میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے متعدد معاہدے موجود ہیں جنہوں نے اس برادرانہ تعلق کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے مختلف ادوار میں سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پوری کرنے اور اس کی عسکری استعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے قومی مفادات سے براہِ راست جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حرمین شریفین پوری امتِ مسلمہ کا روحانی مرکز ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح پاکستانی عوام کے دل بھی ان مقدس مقامات کی محبت سے سرشار ہیں۔ مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی صرف ایک ریاست کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے وابستہ مسئلہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
یمن کا بحران گزشتہ کئی برسوں سے لاکھوں انسانوں کو انسانی المیے سے دوچار کر چکا ہے۔ ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر بنیادی سہولتوں سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس تنازع نے پورے خطے کی معیشت، تجارت اور سلامتی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ عالمی برادری مسلسل اس بحران کے سیاسی حل پر زور دیتی رہی ہے۔
تاہم ایسے حالات میں میزائل حملے، عسکری کارروائیاں اور سرحدی کشیدگی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ جب بھی مذاکرات کی فضا بنتی ہے، کسی نہ کسی جانب سے ایسا اقدام سامنے آ جاتا ہے جو اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام متعلقہ فریقوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحمل، بردباری اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت ہمیشہ توازن رہی ہے۔ ایک جانب پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے تو دوسری جانب یمن کے بحران کے سیاسی اور پرامن حل کی بھی مسلسل حمایت کرتا ہے۔ یہی متوازن سوچ پاکستان کو خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بناتی ہے۔ پاکستان نہ کسی نئی جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی کسی ایسے اقدام کی حمایت کرتا ہے جس سے خطے میں مزید خونریزی اور تباہی جنم لے۔
آج مشرقِ وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال سے بعض علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں اپنے سیاسی اور تزویراتی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مسلم دنیا پہلے ہی مختلف تنازعات، اقتصادی مشکلات اور سلامتی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں باہمی اختلافات کو مزید ہوا دینا پوری امت کے مفاد کے خلاف ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اسلامی ممالک مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور تنازعات کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔
پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کا داعی رہا ہے۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ سمیت ہر اہم مسئلے پر پاکستان نے انصاف، امن اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مؤقف اختیار کیا ہے۔ یہی مستقل مزاجی آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔
اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جو مذاکرات کی راہ ہموار کریں، اعتماد سازی کو فروغ دیں اور مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔
عالمی برادری کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی امن تک پھیل سکتے ہیں۔ اس لیے تمام ذمہ دار قوتوں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
پاکستان اس پورے معاملے میں ایک ذمہ دار، امن پسند اور باوقار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کی یکجہتی کسی جارحانہ سوچ کا اظہار نہیں بلکہ برادرانہ تعلقات، مشترکہ دینی اقدار اور علاقائی استحکام کے تحفظ کا مظہر ہے۔ پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ پائیدار امن صرف مذاکرات، انصاف، باہمی احترام اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا اتحاد، بصیرت اور دانشمندی کا مظاہرہ کرے۔ داخلی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ مفادات کو مقدم رکھا جائے، امن کے ہر موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے اجتناب کیا جائے جو مزید خونریزی اور تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان کا قومی مؤقف واضح، دوٹوک اور اصولی ہے۔ مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پاکستان کے لیے ہمیشہ اہم رہی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ برادر اسلامی ملک کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کی حمایت جاری رکھے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری مسلم دنیا کو پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان اپنی تاریخی ذمہ داریوں، برادرانہ تعلقات اور قومی مفادات کے مطابق ہمیشہ امن، انصاف، اسلامی اخوت اور خطے کے استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭







