تجزیہ بی این پی
آزاد جموں و کشمیر پاکستان کی قومی سلامتی، جغرافیائی اہمیت اور سفارتی مؤقف کا ایک نہایت حساس اور اہم خطہ ہے۔ یہ صرف ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی، قربانیوں اور پاکستان کے ساتھ لازوال رشتے کی علامت بھی ہے۔ ایسے میں جب آزاد کشمیر عام انتخابات کے ایک اہم مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے، وہاں امن و امان کی صورتحال ہر پاکستانی کے لیے باعثِ تشویش بھی ہے اور قومی ذمہ داری بھی۔ حالیہ دنوں پیش آنے والے واقعات، احتجاج، جھڑپوں اور انسانی جانوں کے ضیاع نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ سیاسی اختلافات، عوامی مطالبات اور ریاستی ذمہ داریوں کے درمیان متوازن حکمتِ عملی ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔
حالیہ کشیدگی میں فورسز کے اہلکاروں سمیت متعدد افراد کی جانوں کا ضیاع ایک افسوسناک سانحہ ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی جان کا نقصان ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل، ذمہ داری اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے اقدامات اختیار کریں جو مزید خونریزی کو روک سکیں اور عوام کے اعتماد کو بحال کریں۔
سرکاری حکام کے مطابق بعض عناصر نے احتجاج کی آڑ میں خودکار ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا، سڑکیں بند کیں اور خواتین و بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ اگر ایسی اطلاعات درست ہیں تو یہ عمل کسی بھی طور پر جمہوری احتجاج کی تعریف میں نہیں آتا۔ قانون کی عملداری ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور کسی بھی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مسلح کارروائیوں یا ریاستی اداروں پر حملوں کو نظر انداز کرے۔ اسی تناظر میں امن کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ریاستی اداروں کی ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کے سیاسی، سماجی، معاشی اور نفسیاتی پہلوؤں کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔ جب عوامی مسائل کو بروقت سنا جاتا ہے، شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے اور اعتماد سازی کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے تو کشیدگی خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست اختیار کرتی ہے۔
آزاد کشمیر میں عام انتخابات قریب ہیں اور جمہوری عمل کا تسلسل پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ انتخابات صرف نمائندوں کے انتخاب کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، سیاسی استحکام اور آئینی عمل کی مضبوطی کا مظہر ہوتے ہیں۔ اگر انتخابی ماحول پر تشدد، خوف یا بدامنی کے سائے چھا جائیں تو اس کے اثرات نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی مؤقف پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے کی کوششیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست اس حساس مرحلے کو ہر قیمت پر محفوظ بنانا چاہتی ہے۔ پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی درخواست بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے تاکہ عوام بلاخوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تمام فریق امن و استحکام کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن اختلاف کو تصادم میں بدل دینا نہ صرف سیاسی نظام بلکہ عوامی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی قیادت نے مذاکرات، برداشت اور قومی مفاد کو ترجیح دی، حالات میں بہتری آئی۔ اس کے برعکس جب جذباتیت، اشتعال انگیزی یا طاقت کے بے جا استعمال نے جگہ لی تو نقصان عام شہریوں ہی کو اٹھانا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کی راہ کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان کو اس وقت خطے میں متعدد سفارتی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی، جنوبی ایشیا کی بدلتی صورتحال اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات ایسے عوامل ہیں جو قومی اتحاد کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں داخلی استحکام پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔
دشمن عناصر ہمیشہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور گمراہ کن معلومات کے ذریعے عوام کو تقسیم کرنے کی کوششیں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور ایسے بیانیے سے گریز کریں جو انتشار کو فروغ دے۔
تجزیہ بی این پی کی رائے میں آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جذباتی رشتے کو ہمیشہ مضبوط سمجھتے آئے ہیں۔ یہی تعلق اس خطے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام مل کر ایسے ماحول کو فروغ دیں جہاں اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوری مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور معاشی ترقی کی مزید ضرورت ہے۔ جب ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور بنیادی سہولیات بہتر ہوں گی تو بے چینی اور مایوسی میں بھی واضح کمی آئے گی۔ ترقی اور امن ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں بھی قابلِ احترام ہیں۔ امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار پوری قوم کے محسن ہیں۔ اسی طرح ہر بے گناہ شہری کی جان بھی یکساں قیمتی ہے۔ ایک مہذب ریاست کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ قانون پر عمل درآمد بھی یقینی بنائے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دے۔
موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کو نفرت، اشتعال اور الزام تراشی کے بجائے عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور مثبت وڑن پر استوار کریں۔ کشمیری عوام باشعور ہیں اور وہ ایسے نمائندوں کا انتخاب چاہتے ہیں جو خطے کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلوں تک لے جا سکیں۔انتخابات کے دوران میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ ذمہ دار صحافت ہی قومی یکجہتی کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ سنسنی، غیر مصدقہ اطلاعات اور اشتعال انگیز بیانیہ وقتی توجہ تو حاصل کر سکتا ہے مگر قومی مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے برعکس متوازن، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ معاشرے میں اعتماد پیدا کرتی ہے۔
آزاد کشمیر کے نوجوان اس خطے کا روشن مستقبل ہیں۔ انہیں سیاسی شعور، تعمیری سوچ اور قومی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ نوجوان اگر تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور مثبت سیاست کی طرف راغب ہوں گے تو آزاد کشمیر کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔یہ بھی ضروری ہے کہ احتجاج کے حق اور قانون کی عملداری کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، لیکن اس حق کو تشدد، اسلحے یا ریاستی اداروں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ریاست کو بھی قانون نافذ کرتے وقت صبر، تحمل، شفافیت اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔
آزاد کشمیر کی سرزمین نے ہمیشہ قربانی، وفاداری اور حب الوطنی کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ یہی جذبہ آج بھی اس خطے کو درپیش مشکلات سے نکالنے کی سب سے بڑی قوت ہے۔ اگر تمام فریق قومی مفاد، آئین اور جمہوری اصولوں کو مقدم رکھیں تو موجودہ کشیدگی جلد ختم ہو سکتی ہے اور انتخابات ایک پرامن، شفاف اور باوقار ماحول میں منعقد ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر کا روشن مستقبل امن، سیاسی بصیرت، قومی اتحاد، مضبوط اداروں اور عوامی اعتماد سے وابستہ ہے۔ مذاکرات، برداشت اور قانون کی بالادستی وہ ستون ہیں جن پر ایک مستحکم اور خوشحال معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔ آج کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے، شرپسند عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے، عوام کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور آنے والے انتخابات کو آزاد کشمیر کی جمہوری تاریخ کا ایک کامیاب، پرامن اور مثالی باب بنایا جائے۔ یہی راستہ ریاست، عوام اور قومی مفاد سب کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭
آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور جمہوری عمل کی کامیابی وقت کی اہم ضرورت
0







