اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی ملک محمد عامر ڈوگر سے ملاقات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی یا دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی کوئی دعوت یا تجویز نہیں دی، اس ملاقات میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی موجود تھے، قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے متعلق امور کے حوالے سے گفتگو ہوئی، انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات کے دوران حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی یا آغاز کے حوالے سے کوئی بات چیت یا تجویز زیرِ غور نہیں آئی۔
جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے دونوں سے صرف یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کرنے والے اراکین قومی اسمبلی کے نام مانگے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہوئی۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اگر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور ملک محمد عامر ڈوگر کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے کوئی گفتگو ہوئی ہے تو انہیں اس بارے میں علم نہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لئے بارہا کوششیں کیں اور مذاکرات کی دعوتیں دیں تاہم اب انہوں نے مذاکرات کے لئے دعوت دینا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مذاکرات کی دعوتیں دیتے دیتے تھک گیا ہوں، اب میں نے مذاکرات کے لئے کہنا چھوڑ دیا ہے۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ماضی میں متعدد بار اپوزیشن کو پارلیمان کے فلور پر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل بالآخر مل بیٹھ کر اور باہمی اتفاقِ رائے پیدا کرکے نکالا جا سکتا ہے تاہم صرف میڈیا میں بیانات دینے سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لئے میز پر بیٹھنا ضروری ہے۔
ماضی میں سیاسی مذاکرات کے حوالے سے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی سے متعلق سوال کے جواب میں سپیکر نے کہا کہ جن اپوزیشن ارکان کے مقف کے نتیجے میں یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی انہوں نے تاحال اس کمیٹی کی بحالی کے لئے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی نے قائد حزبِ اختلاف کا انتخاب اس توقع کے ساتھ کیا ہو کہ وہ مذاکرات کریں گے تاہم شاید انہیں مذاکرات کے لئے اجازت نہیں دی گئی۔
پی ٹی آئی سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے ساتھ منسلک عملے کے حوالے سے سوال کے جواب میں سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین یہ عملہ واپس کردیں تو اسے واپس لے لیا جائے گا اور قومی اسمبلی اس عملے کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرے گی۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایک بار پھر قائد حزبِ اختلاف سے ملاقات پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر قائد حزبِ اختلاف ان کے چیمبر میں آنا نہیں چاہتے تو وہ کمیٹی روم میں آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات کو آسان بنانے کے لئے وہ خود اپنا چیمبر خالی کر دیں گیتاہم سپیکر سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن واقعی مذاکرات کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس امر کا اعادہ کیا کہ سیاسی مذاکرات اور مسائل کے حل کے لئے پارلیمان ہی موزوں ترین فورم ہے جہاں باہمی مشاورت، سنجیدہ مکالمے اور بامعنی رابطے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔







