ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائیگا، سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ

ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائیگا، سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ 0

مکہ مکرمہ /اسلام آباد (انٹرنیشنل۔نیشنل نیوز)سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دئیے جس کے تحت باہمی دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دیا جائے گا،تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ، تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

جمعہ کو جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 24 صفر 1448ھ، بمطابق 7 اگست 2026ئ، مملکتِ سعودی عرب کا دورہ کیا۔

ولی عہد اور وزیراعظم، عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کا مکہ المکرمہ کے قصر الصفا میں استقبال کیا، جہاں مشترکہ دفاع کے لیے مکہ المکرمہ سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران مملکتِ سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان قائم دیرینہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا، نیز باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تینوں ممالک کے مابین دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے پائیدار رشتوں، مشترکہ تزویراتی مفادات اور دفاعی شعبے میں طویل عرصے سے جاری تعاون کی روشنی میں، مملکتِ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ معاہدہ تینوں ممالک کی جانب سے اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے تاکہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں یہ واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ، تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

مزید برآں، معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دینے اور مضبوط بنانے کی بھی ضمانت دیتا ہے۔دفتر خارجہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا گیا جبکہ باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے مضبوط رشتوں، مشترکہ تزویراتی مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔

یہ معاہدہ تینوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کا مظہر ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مضبوط بنائیں گے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لئے مل کر کام کریں گے تاکہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ، تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں