
ایرانی حکام کے مطابق ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، جس میں بحری جہازوں کے لیے مخصوص تجارتی راستے اور آمدورفت کے طریقۂ کار سے متعلق سمجھوتہ شامل ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی فیصلہ ابھی اعلیٰ سطح پر ہونا باقی ہے اور یہ فریم ورک بذاتِ خود آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کی ضمانت نہیں دیتا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں بحری آمدورفت میں بہتری کی کوئی بھی پیش رفت عالمی تیل کی سپلائی، شپنگ اخراجات اور خام تیل کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے دباؤ میں کمی کی توقعات پیدا ہوئی ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
اہم بات: فی الحال اسے آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے کا حتمی معاہدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا؛ حتمی منظوری اور عملی طریقۂ کار ابھی باقی ہیں۔