کوئٹہ، وزیراعلی سرفراز بگٹی کا سیکیورٹی ڈرل کے باعث سڑکوں کی بندش پر نوٹس

کوئٹہ، وزیراعلی سرفراز بگٹی کا سیکیورٹی ڈرل کے باعث سڑکوں کی بندش پر نوٹس، اہم شاہراہیں ٹریفک کے لیے بحال سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کو غیر ضروری مشکلات میں ڈالنا قابلِ قبول نہیں: وزیراعلی بلوچستان کی مربوط ٹریفک پلان بنانے کی ہدایت کوئٹہ (خ ن ) وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی ڈرل کے دوران مختلف اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینے اور عوامی مشکلات کے فوری ازالے کی ہدایت جاری کر دی۔ وزیراعلی کی مداخلت کے بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم شاہراہوں کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا، جس کے بعد شہر میں ٹریفک کی روانی بحال ہونا شروع ہوگئی وزیراعلی ہاس سے جاری اعلامیے کے مطابق میر سرفراز بگٹی کو کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی ڈرل کے باعث اہم شاہراہوں کی بندش، ٹریفک جام اور شہریوں کو درپیش مشکلات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئیں، جس پر انہوں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ سیکیورٹی انتظامات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم عوام کی روزمرہ زندگی اور آمدورفت کو غیر ضروری طور پر متاثر نہیں ہونا چاہیے وزیراعلی نے واضح کیا کہ حکومت عوام کی خدمت کے لیے قائم ہے اور شہریوں کو بلاوجہ مشکلات میں ڈالنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں، طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، تاجروں، خواتین، بزرگ شہریوں اور دیگر مسافروں کو سڑکوں کی طویل بندش کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے آئندہ ایسے تمام انتظامات میں عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کسی بھی سیکیورٹی ڈرل، وی آئی پی موومنٹ یا ہنگامی صورتحال کے دوران جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان ترتیب دیا جائے، متبادل راستے پہلے سے مختص کیے جائیں، ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے اور شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں تاکہ غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے تقاضے پورے کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے، تاہم ان اقدامات کے دوران شہریوں کی سہولت اور معمولات زندگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تمام متعلقہ ادارے ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے سیکیورٹی بھی مثر رہے اور عوام کو بھی کم سے کم مشکلات پیش آئیں وزیراعلی کے احکامات کے بعد پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے فوری طور پر مختلف مقامات کا جائزہ لیا اور جہاں ممکن ہوا وہاں رکاوٹیں ہٹا کر شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔ ٹریفک اہلکاروں کو اہم چوراہوں اور شاہراہوں پر تعینات کیا گیا تاکہ گاڑیوں کی روانی برقرار رہے اور شہریوں کو متبادل راستوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جا سکے اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو مستقبل کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی سیکیورٹی آپریشن، مشق یا خصوصی انتظامات کے دوران تمام ادارے باہمی رابطے اور مثر کوآرڈی نیشن کے ساتھ کام کریں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور شہریوں کو غیر ضروری انتظار، ذہنی اذیت اور سفری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید شہروں میں سیکیورٹی اور ٹریفک مینجمنٹ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے شعبے ہیں، اس لیے بلوچستان میں بھی جدید تقاضوں کے مطابق مربوط نظام متعارف کرایا جائے، جس کے ذریعے سیکیورٹی خدشات سے مثر انداز میں نمٹنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سہولت کو بھی یقینی بنایا جا سکے شہریوں، تاجروں اور مختلف سماجی حلقوں نے وزیراعلی کے فوری نوٹس اور بروقت اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں سیکیورٹی اقدامات کے دوران ٹریفک کی بندش کے فیصلے بہتر منصوبہ بندی کے تحت کیے جائیں گے تاکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی اداروں اور طبی خدمات پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے آخر میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی سہولت کو ہر فیصلے کا بنیادی جزو بنایا جائے، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے جدید نظام اپنایا جائے، متبادل راستوں کی بروقت نشاندہی کی جائے اور سیکیورٹی کے تقاضوں اور عوامی مفاد کے درمیان ایسا مثر توازن قائم رکھا جائے جو ایک ذمہ دار اور عوام دوست حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرے۔ 0

کوئٹہ (خ ن ) وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی ڈرل کے دوران مختلف اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینے اور عوامی مشکلات کے فوری ازالے کی ہدایت جاری کر دی۔

وزیراعلی کی مداخلت کے بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم شاہراہوں کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا، جس کے بعد شہر میں ٹریفک کی روانی بحال ہونا شروع ہوگئی وزیراعلی ہاس سے جاری اعلامیے کے مطابق میر سرفراز بگٹی کو کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی ڈرل کے باعث اہم شاہراہوں کی بندش، ٹریفک جام اور شہریوں کو درپیش مشکلات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئیں، جس پر انہوں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ سیکیورٹی انتظامات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم عوام کی روزمرہ زندگی اور آمدورفت کو غیر ضروری طور پر متاثر نہیں ہونا چاہیے وزیراعلی نے واضح کیا کہ حکومت عوام کی خدمت کے لیے قائم ہے اور شہریوں کو بلاوجہ مشکلات میں ڈالنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مریضوں، طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، تاجروں، خواتین، بزرگ شہریوں اور دیگر مسافروں کو سڑکوں کی طویل بندش کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے آئندہ ایسے تمام انتظامات میں عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کسی بھی سیکیورٹی ڈرل، وی آئی پی موومنٹ یا ہنگامی صورتحال کے دوران جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان ترتیب دیا جائے، متبادل راستے پہلے سے مختص کیے جائیں، ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے اور شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں تاکہ غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے تقاضے پورے کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے، تاہم ان اقدامات کے دوران شہریوں کی سہولت اور معمولات زندگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

تمام متعلقہ ادارے ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے سیکیورٹی بھی مثر رہے اور عوام کو بھی کم سے کم مشکلات پیش آئیں وزیراعلی کے احکامات کے بعد پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے فوری طور پر مختلف مقامات کا جائزہ لیا اور جہاں ممکن ہوا وہاں رکاوٹیں ہٹا کر شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔

ٹریفک اہلکاروں کو اہم چوراہوں اور شاہراہوں پر تعینات کیا گیا تاکہ گاڑیوں کی روانی برقرار رہے اور شہریوں کو متبادل راستوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جا سکے اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو مستقبل کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی سیکیورٹی آپریشن، مشق یا خصوصی انتظامات کے دوران تمام ادارے باہمی رابطے اور مثر کوآرڈی نیشن کے ساتھ کام کریں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور شہریوں کو غیر ضروری انتظار، ذہنی اذیت اور سفری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید شہروں میں سیکیورٹی اور ٹریفک مینجمنٹ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے شعبے ہیں، اس لیے بلوچستان میں بھی جدید تقاضوں کے مطابق مربوط نظام متعارف کرایا جائے، جس کے ذریعے سیکیورٹی خدشات سے مثر انداز میں نمٹنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سہولت کو بھی یقینی بنایا جا سکے شہریوں، تاجروں اور مختلف سماجی حلقوں نے وزیراعلی کے فوری نوٹس اور بروقت اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں سیکیورٹی اقدامات کے دوران ٹریفک کی بندش کے فیصلے بہتر منصوبہ بندی کے تحت کیے جائیں گے تاکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی اداروں اور طبی خدمات پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے آخر میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی سہولت کو ہر فیصلے کا بنیادی جزو بنایا جائے، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے جدید نظام اپنایا جائے، متبادل راستوں کی بروقت نشاندہی کی جائے اور سیکیورٹی کے تقاضوں اور عوامی مفاد کے درمیان ایسا مثر توازن قائم رکھا جائے جو ایک ذمہ دار اور عوام دوست حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں