* *علاقائی اخبارات، فری لانس صحافیوں اور پرنٹ میڈیا کے تحفظ کے لیے آئینی وضاحت طلب*
* *حکومتی اشتہارات، بجٹ، آڈٹ، ڈیجیٹل میڈیا فنڈز اور پالیسی کی قانونی حیثیت پر سوالات*
* *آرٹیکل 19، 19-اے اور حقِ معلومات قانون کے تحت 15 روز میں جواب دینے کا مطالبہ*
* *ریکارڈ فراہم نہ ہونے کی صورت میں ہائی کورٹ، انفارمیشن کمیشن اور دیگر فورمز سے رجوع کرنے کا اعلان*
* *پالیسی پر عملدرآمد عارضی طور پر روک کر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا مطالبہ*
کوئٹہ(پ ر)بلوچی، براہوی، پشتو پرنٹ میڈیا کے صدر انور شاہ کی جانب سے ایڈوکیٹ صادق خلجی کے ذریعے ڈائریکٹر جنرل محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کو میڈیا پالیسی 2023 (نظرثانی 2026) کے نفاذ، حکومتی اشتہارات کی تقسیم، بجٹ، ڈیجیٹل میڈیا فنڈز، فری لانس صحافیوں کے تحفظ اور مبینہ انتظامی و مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ایک تفصیلی قانونی نوٹس ارسال کیا گیا ہے۔ نوٹس میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 19، 19-اے، بلوچستان ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت متعدد نکات پر مصدقہ ریکارڈ اور قانونی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
قانونی نوٹس میں استفسار کیا گیا ہے کہ آیا میڈیا پالیسی 2023 (نظرثانی 2026) کا یکم جولائی 2026 سے باضابطہ نفاذ کیا جا چکا ہے، اور اگر ایسا ہے تو متعلقہ نوٹیفکیشن، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، ضلعی سطح پر ڈیجیٹل نظام کی فعالیت، اشتہارات کی تقسیم میں مبینہ مداخلت، بجٹ میں ردوبدل، آڈٹ رپورٹس، علاقائی زبانوں کے اخبارات پر اثرات، وفاقی و بین الصوبائی مشاورت، قانونی آراء اور پالیسی کی منظوری سے متعلق تمام ریکارڈ فراہم کرنے سمیت 19 وضاحتیں طلب کی ہیں ۔
نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر حکومت پالیسی کی قانونی، شفاف اور مشاورتی بنیاد ثابت کرنے میں ناکام رہتی ہے تو میڈیا پالیسی پر عارضی طور پر عملدرآمد روک کر علاقائی اخبارات، صحافتی تنظیموں، ڈیجیٹل میڈیا نمائندوں، فری لانس صحافیوں، قانونی ماہرین اور سرکاری اداروں پر مشتمل نمائندہ مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ نوٹس میں محکمہ کو 15 روز کے اندر مکمل اور مصدقہ جواب فراہم کرنے کا پابند قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ بصورت دیگر بلوچستان انفارمیشن کمیشن، بلوچستان ہائی کورٹ اور دیگر مجاز فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔







