امریکا اور چین میں AI کی عالمی جنگ تیز، اتحادی ممالک کو انتخاب کا اشارہ
بین الاقوامی: مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا اور چین کے درمیان عالمی مقابلہ مزید تیز ہوگیا ہے۔ تازہ پیش رفت میں امریکا اپنے اتحادی ممالک پر زور دینے کی تیاری کر رہا ہے کہ وہ AI، سیمی کنڈکٹرز اور اہم ٹیکنالوجی کے معاملے میں واشنگٹن یا بیجنگ میں سے ایک جانب واضح طور پر کھڑے ہوں۔
رائٹرز کے مطابق امریکی حکام ایسے ممالک کو خبردار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو بیک وقت امریکی قیادت والے Pax Silica اور چین کے نئے AI تعاون کے فریم ورک میں شامل ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ دونوں نظاموں میں بیک وقت شمولیت مستقبل کے تکنیکی تعاون کو متاثر کرسکتی ہے۔
دوسری جانب چین نے AI کے شعبے میں اپنی پیش رفت تیز کردی ہے۔ چینی کمپنی Alibaba کے Qwen ماڈلز نے گزشتہ چھ ماہ میں دنیا بھر میں 3 ارب سے زیادہ ڈاؤن لوڈز حاصل کیے ہیں، جو امریکی کمپنیوں کے متعدد مقبول اوپن ماڈلز سے کہیں زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق کم لاگت اور اوپن ویٹ چینی AI ماڈلز عالمی مارکیٹ میں تیزی سے جگہ بنا رہے ہیں، جس سے مستقبل کی ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور عالمی ڈیجیٹل اثر و رسوخ کی دوڑ مزید اہم ہوگئی ہے۔